فرانس کی جانب سے قطر اور متحدہ عرب امارات کو جدید رافیل لڑاکا طیاروں کی فروخت نے بھارت میں تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کے بعد بھارتی فضائیہ کو خدشہ ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن اس کے خلاف جا سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ان طیاروں کے ذریعے پاکستان اور ترکی کے پائلٹس کو جدید ترین فضائی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق قطر اور متحدہ عرب امارات نے پاکستانی اور ترک پائلٹس کو رافیل اور میراج طیاروں پر تربیت حاصل کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے بھارتی دفاعی ماہرین کے مطابق حساس ٹیکنالوجی کے افشا ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے دفاعی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ پیش رفت بھارت کے لیے “سنگین اسٹریٹجک چیلنج” بن سکتی ہے، کیونکہ رافیل طیارے بھارت کی فضائی طاقت کا اہم حصہ ہیں۔
یورپی دفاعی تجزیہ کار بابک تغوائی کے مطابق فرانس کی نرم برآمدی پالیسی اس بات کا سبب بن رہی ہے کہ اس کی حساس فوجی ٹیکنالوجی اُن ممالک تک پہنچ رہی ہے جو یا تو نیٹو کے رکن نہیں ہیں یا بھارت کے اسٹریٹجک حریف سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فرانس نے برآمدی کنٹرول سخت نہ کیے تو بھارت کی دفاعی برتری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔