لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں قیامِ امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی روکنے کے لیے کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا، وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ جمعے کے خطبے اور اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر پر کوئی پابندی نہیں ہوگی، کسی فرد یا جماعت کو نفرت یا اشتعال انگیزی کے لیے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مریم نواز نے اجلاس میں 65 ہزار سے زائد علما کرام کے وظائف کے معاملات کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی اور بتایا کہ مساجد کی ڈیجیٹل میپنگ کا عمل جاری ہے تاکہ وظائف کی فراہمی شفاف اور منظم طریقے سے ممکن بنائی جا سکے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مساجد کی تزئین و آرائش، صفائی، اطراف کے راستوں کی بہتری اور نکاسی آب کے نظام کو ترجیحی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے والی جماعتوں کی پنجاب حکومت بھرپور سرپرستی کرے گی۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ صوبے میں کسی مذہبی جماعت پر کوئی پابندی نہیں، البتہ فتنہ انگیز اور انتہا پسند عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی، غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف بھی کڑی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ اسلحہ سرینڈر کرنے والے شہریوں کے تعاون پر وزیراعلیٰ نے اطمینان کا اظہار کیا۔
مریم نواز نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کو حکومت پنجاب کا مشترکہ مشن قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو 100 فیصد ہدف حاصل کرنے کی ہدایت دی۔
اجلاس میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی سہولت کاری یا معاونت کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، سوشل میڈیا پر نفرت، جھوٹ اور اشتعال پھیلانے والوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی اور بتایا گیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز مواد کی نگرانی کے لیے اسپیشل یونٹس فعال کر دیے گئے ہیں۔