پشاور: عمران خان حکومت کے خاتمے کے بعد آنے والی نگراں اور شہباز شریف نے قرض لینے کے نئے ریکارڈ بنالیے۔35 ہزار ارب روپے سے زائد کا قرضہ لینے کا انکشاف۔
، گزشتہ چند سالوں کے دوران پی ڈی ایم، نگراں اور شہباز حکومت کی جانب سے ملکی قرضوں میں بے تحاشا اضافے کے تمام ریکارڈ توڑ دیے گئے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے انکشاف کیا ہے کہ پچھلے چار سالوں میں 35 ہزار روپے روپے کا قرض لیا گیا اس میں چار ہزار ارب روپے بھی ترقیاتی اخراجات میں نہیں لگائے گئے۔
حکومت کے 8207 ارب روپے سود کی ادائیگی میں جا رہے ہیں پاکستان میں شرح سود 22 سے 11 فیصد پر آگیا ہے لیکن پھر بھی حکومت کے فنڈز ناقص پالیسیوں کی وجہ سود کی ادائیگیوں میں جا رہے ہیں۔
سود کی ادائیگی کیلئے قرض لے رہے ہیں کیا اس سے معیشت بہتر ہو جائے گی؟۔پاکستان کا کل قرض 78 ہزار ارب روپے ہیں اگر بقایاجات ملا لیں تو 94 ہزار روپے روپے بنتے ہیں۔
مزمل اسلم نے کہا کہ کل جو وفاقی حکومت کے جو سات وزراءپریس کانفرنس کر رہے تھے وہ بتا رہے تھے کہ آئی ایم ایف کی ا سٹاف لیول معاہدہ نشاندہی کر رہا ہے کہ حکومت صحیح سمت میں جا رہی ہے جبکہ چار ہفتے ہوگئے بورڈ میٹنگ کا اعلان نہیں ہوا۔
مزمل اسلم نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کہہ رہا ہے کہ شرح سود 11 فیصد ہے جبکہ اشیاءکی قیمتیں 40 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری آتی نہیں ہے اگر آتی ہے تو منافع باہر جاتا ہے۔
پچھلے 3 ماہ میں ملک میں 44 کروڑ ڈالرز کی بیرونی سرمایہ کاری، جبکہ 75 کروڑ ڈالرز منافع کی مد میں بیرون ملک منتقل ہو گئے، ملک سے مختلف کمپنیاں باہر جا رہی ہیں۔