وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت 18ویں ترمیم کو کسی صورت نہیں چھیڑا جا رہا، البتہ تعلیم اور آبادی جیسے اہم شعبوں پر ملک گیر پالیسی کی ضرورت ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام “آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین کی پرانی تجویز تھی کہ تعلیم کو وفاق کے دائرہ اختیار میں رہنے دیا جائے، اس حوالے سے پارلیمنٹ میں ہر نکتے پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وقت اور حالات کے مطابق آئین میں ترامیم ہوتی رہتی ہیں، آئینی عدالت کے قیام کی تجویز بھی کئی برسوں سے زیر غور ہے، اور اب محسوس ہو رہا ہے کہ 27ویں ترمیم کی راہ میں کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔
وزیر اطلاعات نے وضاحت کی کہ مجسٹریسی نظام کوئی نیا نہیں بلکہ پہلے بھی ملک میں رائج رہا ہے، جسے ازسرِنو فعال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کابینہ کے اجلاس معمول کے مطابق ہر ہفتے ہوتے ہیں، پیپلز پارٹی کی سی ای سی کے بعد معاملہ کابینہ میں پیش کیا جائے گا، جب کہ بلدیاتی نظام سے متعلق ایم کیو ایم کا پرانا مطالبہ بھی اس ترمیمی عمل کا حصہ ہے۔
عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی 27ویں آئینی ترمیم کو بلاوجہ منفی رنگ دے رہی ہے۔ ان کے بقول، پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حالیہ بیان بازی غیر سنجیدہ اور محض شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔
افغانستان سے متعلق سوال پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے آٹھ جہاز گرانے کی خبریں عالمی سطح پر موضوع بن چکی ہیں، جبکہ افغانستان کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاک۔افغان مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے اور واضح کیا کہ پاکستان کا ایک ہی مطالبہ ہے — افغان سرزمین سے دہشت گردی کی کوئی کارروائی نہ ہو۔