ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے قانون کی منظوری

(فائل فوٹو)

تل ابیب:۔ اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی پارلیمنٹ (کنیسے)  کا پاس کر دہ بل فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کی اجازت دیتا ہے۔

بل وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر کی پارٹی جیوش پاور نے پیش کیا، جس کے مطابق اُن فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دی جا سکے گی جو اسرائیلی شہریوں کے قتل میں ملوث ہوں، اگر ان کے اقدامات “نفرت یا اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے ارادے” سے کیے گئے ہوں۔

یہ بل 120 ارکان میں سے 39 کے مقابلے میں 16 ووٹوں سے ابتدائی طور پر منظور ہوا۔ بن گویر نے اس نتیجے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر “تاریخی لمحہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے وعدہ کیا تھا اور اب پورا کیا۔

اسرائیل کی پارلیمنٹ (کنیسے) نے  ایک اور قانون کی منظوری بھی دی ہے جس کے تحت حکومت کو عدالتی منظوری کے بغیر غیر ملکی میڈیا اداروں کو مستقل طور پر بند کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔ یہ دونوں بل وزیر اعظم نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحادیوں کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں اور ابتدائی منظوری کے بعد اب انھیں حتمی منظوری سے قبل پارلیمانی کمیٹی میں مزید بحث کے لیے بھیجا گیا ہے۔

 یہ قانون اس وقت حکومت کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ ان غیر ملکی میڈیا اداروں کو عارضی طور پر بند کر سکے جنھیں “اسرائیل کی سلامتی کے لیے نقصان دہ‘”سمجھا جائے۔ یہ بل ابتدائی ووٹنگ میں 50 کے مقابلے میں 41 ووٹوں سے منظور ہوا۔

  • ویب ڈیسک

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں