امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ استحکام فورس کے قیام کے لیے نئی ترمیم شدہ قرارداد پیش کر دی ہے۔ اس قرارداد کے تحت غزہ استحکام فورس ایک بورڈ آف پیس کے تحت قائم کی جائے گی، جس کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
اس بورڈ کا مقصد غزہ میں معاشی بحالی کے پروگراموں کی نگرانی اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے اقدامات کو منظم کرنا ہوگا۔ بورڈ کے تحت مختلف ذیلی ادارے بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ یہ کام مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، امریکی مسودے میں صدر ٹرمپ کا مکمل 20 نکاتی امن منصوبہ شامل کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ مصر میں صدر ٹرمپ کی موجودگی میں غزہ کے انتظام کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس میں انتظامی امور فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے سپرد کرنے کی منظوری دی گئی تھی، لیکن فلسطینی تنظیم حماس نے اس پر اختلاف کیا تھا اور کہا تھا کہ غزہ کا انتظام صرف فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے سپرد ہونا چاہیے۔
یہ قرارداد غزہ میں استحکام اور امن کے لیے امریکی کوششوں کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر باضابطہ شکل دینے کی کوشش ہے۔