ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ایڈٹ شدہ کلپ کا تنازع: بی بی سی نے ٹرمپ سے معافی مانگ لی

لندن: برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کے ایک ایڈٹ شدہ حصے کی نشریات پر بالآخر باضابطہ معافی مانگ لی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بیان میں ادارے نے تسلیم کیا کہ پینوراما پروگرام میں استعمال کیے گئے کلپ کی تدوین اس انداز میں کی گئی کہ اس سے غلط تاثر پیدا ہوا، جیسے ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو براہ راست تشدد پر اکسانے کی کوشش کی ہو۔ بی بی سی نے واضح کیا کہ اس غلطی کا ادارتی طور پر جائزہ لیا جا چکا ہے اور یہ پروگرام دوبارہ نشر نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کے وکلا نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی بی سی کے خلاف ایک ارب ڈالر کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ٹرمپ کی ٹیم کا مؤقف تھا کہ ایڈیٹنگ نے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، لہٰذا نہ صرف معذرت اور اصلاح ضروری ہے بلکہ انہیں مالی معاوضہ بھی ادا کیا جانا چاہیے۔

بعد ازاں بی بی سی نے یہ مطالبہ دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معافی کے باوجود کسی بھی قسم کا مالی معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا اور اس تنازع میں ہتکِ عزت کا دعویٰ بنتا ہی نہیں۔

واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹِم ڈیوی اور ہیڈ آف نیوز ڈیبی ٹرننس دونوں نے اتوار کے روز اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان استعفوں نے ادارے کے اندرونی بحران کو بھی مزید نمایاں کر دیا اور یہ سوالات اٹھائے کہ ادارتی نگرانی میں اس حد تک بڑی غلطی کس طرح پیش آئی۔

بی بی سی کی اندرونی تحقیقات کے مطابق پینوراما پروگرام کو شکایات موصول ہونے کے بعد دوبارہ دیکھا گیا اور یہ اعتراف سامنے آیا کہ مختلف حصوں کو جوڑنے کی تکنیک نے تقریر کی اصل صورت کو مسخ کر دیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں