پشاور: خیبرپختونخوا میں محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ایلیٹ فورس اور مقامی پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی کے دوران ایک افغان خودکش حملہ آور اور اُس کے سہولت کار کو گرفتار کر لیا۔ دونوں ملزمان مبینہ طور پر کسی بڑی دہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق سوات میں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دوران خشک نالے کے قریب دو مشکوک افراد کی موجودگی کی اطلاع پر فورسز نے فوری کارروائی کی۔ مشکوک افراد نے پولیس پارٹی کو دیکھ کر فرار ہونے کی کوشش کی تاہم اہلکاروں نے حکمتِ عملی کے تحت دونوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ گرفتار خودکش حملہ آور کا تعلق افغانستان کے صوبے بلخ سے ہے جس کا نام قیس بتایا گیا ہے۔ وہ اپنے سہولت کار رفیع اللہ کے ساتھ پاکستان میں بڑی کارروائی کرنے کے ارادے سے موجود تھا۔
فورسز کے مطابق ملزمان کے قبضے سے تین دستی بم برآمد ہوئے، جبکہ خودکش بمبار کے پاس سے نیلے تھیلے میں لپٹی دیسی آئی ای ڈی، فیوز اور بارودی مواد بھی ملا، جسے بروقت کارروائی کرکے ناکارہ بنا دیا گیا۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش جاری ہے اور ملزمان کے نیٹ ورک تک رسائی کے لیے تحقیقات کو وسعت دی جا رہی ہے۔