اسلام آباد: آئی ایم ایف نے پاکستان میں کرپشن راج پر آواز اٹھادی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان میں کرپشن کو مستقل چیلنج قرار دیتے ہوئے ملک میں قانون کی حکمرانی پر بھی سوالات اٹھا دیے۔
بی بی سی کے مطابق آئی ایم ایف نے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ پر پاکستان سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مختلف اعشاریئے وقت کے ساتھ بدعنوانی کے خلاف کمزور کنٹرول کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں سرکاری اخراجات کی موثریت، محصولات کی وصولی اور قانونی نظام پر اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ حکومت کی تمام سطحوں پر بدعنوانی کے خدشات موجود ہیں لیکن سب سے زیادہ معاشی نقصان دہ صورتیں ان مراعات یافتہ اداروں سے جڑی ہیں جو اہم معاشی شعبوں پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں، جن میں وہ ادارے بھی شامل ہیں جو ریاست کی ملکیت ہیں یا اس سے منسلک ہیں۔
یہ صورتحال اس تاثر سے مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے کہ انسدادِ بدعنوانی کا طریقہ کار مستقل مزاجی اور غیر جانبداری سے خالی رہا ہے، جس کے باعث کرپشن کے خلاف کام کرنے والے اداروں پر عوامی اعتماد میں کمی آئی ہے۔
عالمی ادارے کی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان دونوں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کی کمزوریوں کا پائیدار حل ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ہی ممکن ہے،۔
اگرچہ ماضی کے پروگرام معیشت کو مستحکم کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے لیکن وہ اصلاحات کو ادارہ جاتی شکل دینے اور بنیادی ڈھانچہ جاتی کمزوریوں کو دور کرنے میں کم موثر رہے۔
اس عرصے میں عوامی معیارِ زندگی جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیاءکے ممالک کے مقابلے میں پیچھے رہ گیا، جس کی وجہ جزوی طور پر انسانی اور مادی وسائل میں کم سرمایہ کاری اور ریاست کے معیشت میں بڑے کردار سے جڑے پائیدار معاشی بگاڑ ہیں۔