نئی دہلی: بھارتی فضائی کمپنی ایئر انڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث اسے 4 ہزار کروڑ بھارتی روپے سے زائد کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے، جب کہ طویل فضائی راستوں کے سبب اخراجات میں اضافہ اور پروازوں میں تاخیر معمول بنتی جا رہی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایئر انڈیا نے نقصان کے ازالے کے لیے باضابطہ طور پر بھارتی حکومت سے 4 ہزار کروڑ روپے کی مالی مدد طلب کر لی ہے۔
کمپنی نے حکومت سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ اسے چین کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دلائی جائے تاکہ اضافی سفر اور ایندھن کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ “آپریشن سندور” کے دوران پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی بندش کے بعد بھارتی ایئرلائنز کو متبادل طویل راستوں کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے، جس سے نہ صرف آپریٹنگ کاسٹ بڑھ گئی ہے بلکہ پروازوں کے شیڈول بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ مسافروں کو تاخیر اور طویل سفر سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
فضائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اربوں روپے کے نقصانات کے باوجود بھارت کی افغانستان کے ساتھ فضائی تجارت پر انحصار قابلِ فہم نہیں رہا، کیونکہ طویل روٹس نے لاگت میں دوگنا اضافہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے اپریل میں بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے بعد ایئر انڈیا سمیت تمام بھارتی ایئرلائنز کو اوور فلائٹ کی اجازت نہ ملنے کے باعث متبادل روٹس استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔