ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

دہلی دھماکا،بھارتی پولیس نےکشمیریوں کاجیناحرام کردیا

آگرہ، : دہلی کار دھماکوں کے بعدبھارتی پولیس نے ملک بھر میں کشمیری مسلمانوں کا جینا حرام کردیا ہے۔

تازہ واقعے میں آگرہ کے منٹولا میں رہنے والے کشمیری نوجوانوں سے پوچھ گچھ کی ہے، انہیں تصدیق کے لیے تھانے بھی بلایا گیا۔

 پولیس کی کارروائی سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، کیونکہ لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ معاملہ کیا ہے؟ لوگوں کو اس معاملے کے بارے میں یقین نہیں تھا۔

 آگرہ کے اداروں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ بھی سکیورٹی ایجنسیوں کے ریڈار پر ہیں۔ڈی سی پی سٹی سید علی عباس نے بتایا کہ ایل آئی یو کے ان پٹ کی بنیاد پر پورے شہر میں تصدیق کی جا رہی ہے۔

ایل آئی یو کو اطلاع ملی تھی کہ منٹولا میں کشمیری نوجوان رہتے ہیں لیکن مقامی پولیس اس سے لاعلم تھی۔ اس لیے تمام کشمیری نوجوانوں کو جمعرات کو تھانے بلایا گیا۔ ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔

اس بات کا تعین کیا گیا کہ آیا ان کے خلاف کوئی کیس زیر التوا یا نہیں ہے۔ ان کے سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر کشمیر سے بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یہ بھی انکشاف ہوا کہ تمام نوجوان برسوں سے یہاں سردیوں میں گرم کپڑے بیچنے آتے رہے ہیں، سردیوں سے پہلے انہوں نے آگرہ میں مکان کرائے پر لے لیا۔

 پولیس کی کارروائی سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کشمیریوں کے بارے میں بات چیت کی جارہی ہے۔

ڈی سی پی سٹی سید علی عباس نے بتایا کہ کشمیری نوجوانوں کی ابتدائی تفتیش میں کوئی مشتبہ شخص سامنے نہیں آیا۔ شہر کے دیگر علاقوں میں رہنے والے کشمیری نوجوانوں کی بھی اسی طرح تصدیق کی جا رہی ہے۔

دہلی کار بم دھماکے کے سلسلے میں لکھنو ¿ میں گرفتار کیے گئے ڈاکٹر پرویز کا آگرہ سے تعلق تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے آگرہ کے ایس این میڈیکل کالج سے ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ سکیورٹی ایجنسیاں اور یوپی اے ٹی ایس کی ٹیمیں اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ ڈاکٹر پرویز اپنی پڑھائی کے دوران کس کس سے رابطے میں تھے۔

 اس کے قریبی ساتھی کون ہیں؟ کون کون اس سے ملنے آیا کرتا تھا۔ڈاکٹر پرویز کی بہن ڈاکٹر شاہین بھی آگرہ آئی تھیں۔ نتیجتاً ایجنسیاں ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر شاہین کے رابطوں کی چھان بین کر رہی ہیں۔

 ایس ٹی ایف اور اے ٹی ایس کی ٹیموں نے ایس این میڈیکل کالج کا دورہ کیا اور پوچھ گچھ کی۔ ٹیم نے ہاسٹل اور شعبہ طب کی بھی تلاشی لی۔ 2009 سے 2016 تک کے جونیئر ڈاکٹروں کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں