آسٹریلیا میں دائیں بازو کی انتہاپسند سینیٹر پالین ہینسن نے پارلیمنٹ میں برقع پہن کر شدید تنازع کھڑا کردیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، عوامی مقامات پر برقع پر پابندی کے لیے پیش کیا گیا اُن کا بل پیر کے روز مسترد ہوا تو انہوں نے بطور احتجاج پارلیمانی اجلاس میں برقع پہن کر شرکت کی۔
مسلم سینیٹرز نے اس اقدام کو کھلی نسل پرستی اور اسلام دشمنی قرار دیا۔ سینیٹر محرین فاروقی نے اسے واضح طور پر نسل پرستانہ حرکت کہا، جبکہ سینیٹر فاطمہ پیمان نے اسے شرمناک عمل قرار دیا۔
ادھر حکومتی اور اپوزیشن دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی پالین ہینسن کے اس عمل کی مذمت کی۔
واضح رہے کہ ہینسن نے 2017 میں بھی اسی طرح برقع پہن کر ملک میں برقع پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔