کینیڈا میں اسکول کی طالبات کو ہراساں کرنے والے ایک بھارتی شہری کو عدالت کے حکم پر ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 51 سالہ جگجیت سنگھ کو کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کی عدالت نے دو کم عمر لڑکیوں کو ہراساں کرنے کے الزامات کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے ملک بدر کرنے اور دوبارہ کینیڈا میں داخلے پر مکمل پابندی کا حکم جاری کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جگجیت سنگھ چھ ماہ کے ویزے پر جولائی میں اپنے نومولود پوتے سے ملنے کے لیے کینیڈا آیا تھا۔ تاہم کینیڈین پولیس کے مطابق، وہ وہاں پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد مقامی ہائی اسکول کے باہر موجود اسموکنگ ایریا میں اکثر نوجوان لڑکیوں کے قریب آتا اور ان سے تصاویر لینے کی کوشش کے ساتھ ساتھ غیر مناسب گفتگو بھی کرتا رہا۔
کینیڈین پولیس نے بتایا کہ 8 ستمبر سے 11 ستمبر کے دوران جگجیت سنگھ نے متعدد بار طالبات کے قریب جا کر انہیں ہراساں کیا اور اسکول کی حدود سے باہر بھی ان کا پیچھا کیا۔ ایک کینیڈین طالبہ نے پولیس کو بتایا کہ ابتدا میں وہ تصویر کھنچوانے پر رضامند نہیں ہوئی، مگر بعد میں امید کے ساتھ تصویر کے لیے ہاں کر دی، لیکن جگجیت سنگھ نے تصویر لیتے وقت بہت قریب آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا، جس سے طالبہ خوفزدہ ہو گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جگجیت سنگھ کو 16 ستمبر کو گرفتار کیا گیا اور اس پر جنسی ہراسانی اور جنسی حملے کے الزامات عائد کیے گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ضمانت پر رہائی کے بعد ایک اور شکایت کے بعد اسے دوبارہ گرفتار کیا گیا، اس بار اس نے عدالت میں اسکول کی طالبات کو ہراساں کرنے کا اعتراف بھی کیا۔
کینیڈین عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جگجیت سنگھ کا اسکول کی حدود میں آنا ناقابل قبول تھا اور اس قسم کا رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
جج نے فیصلہ سناتے ہوئے بھارتی شہری کو فوری طور پر ڈی پورٹ کرنے اور آئندہ کینیڈا میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا۔