ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ٹک ٹاک ویڈیوز بنانا مہنگا پڑ گیا،  لاہور کے تین پولیس اہلکار برطرف

لاہور میں دورانِ ڈیوٹی ٹک ٹاک ویڈیو بنانے والے تین پولیس اہلکاروں کو محکمے نے سخت کارروائی کرتے ہوئے فوراً ملازمت سے برطرف کر دیا۔ واقعہ ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں پیش آیا جہاں کانسٹیبل شاہد، بلال اور عثمان نے وردی میں ویڈیو بنائی تھی، جو چند ہی گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی۔

ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد ایس پی شہربانو نقوی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری شروع کی،  ابتدائی تفتیش میں یہ بات واضح ہوئی کہ تینوں اہلکار ڈیوٹی کے دوران سوشل میڈیا سرگرمیوں میں مصروف تھے، جسے ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اسی بنیاد پر تینوں کو فوری طور پر محکمہ پولیس سے برطرف کردیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق اہلکاروں کی یہ حرکت نہ صرف سروس رولز بلکہ یونیفارم کی حرمت کی بھی خلاف ورزی ہے کیونکہ دوران ڈیوٹی سوشل میڈیا کے لیے ویڈیوز بنانا محکمے کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔

 حکام نے اس واقعے کے بعد واضح کیا ہے کہ یونیفارم پہن کر ویڈیو یا کوئی تفریحی مواد بنانا مکمل طور پر ممنوع ہے اور اس پالیسی پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔

یہ پہلا واقعہ نہیں جب پولیس اہلکاروں کو سوشل میڈیا قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پولیس نے اپنے اہلکاروں کے لیے ٹک ٹاک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر سخت پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں۔ پالیسی کے تحت واضح حکم دیا گیا تھا کہ کوئی بھی اہلکار یونیفارم میں ویڈیو نہیں بنائے گا، بصورت دیگر تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

خیال رہےکہ  اسی پالیسی کی خلاف ورزی پر اسلام آباد پولیس نے دو اہلکاروں آفتاب احمد اور احتشام اسلم کو بھی معطل کیا تھا، ان پر  بدتمیزی اور سوشل میڈیا قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور دونوں کو ریسکیو 15 میں رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں