ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسلام آباد میں انٹرنیشنل ایجوکیشن سمٹ 2025، تعلیم کو قومی بقا سے جوڑنے پر زور

یو کے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کے زیر اہتمام علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں انٹرنیشنل ایجوکیشن سمٹ 2025 کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملکی و غیر ملکی ماہرینِ تعلیم، ریسرچرز، اسکالرز اور اکیڈمک قیادت نے بھرپور شرکت کی۔

اس اہم عالمی تعلیمی اجتماع میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے خصوصی شرکت کرتے ہوئے تعلیم، تحقیق اور پالیسی سازی کو مستقبل کی ترقی کا بنیادی ستون قرار دیا۔ سمٹ کا مقصد نہ صرف تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا بلکہ تعلیمی معیار، تحقیق و ترقی اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز پر سنجیدہ مکالمہ بھی تھا۔

اپنے خطاب میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ آج کی دنیا میں تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ قومی ترقی، معاشی استحکام اور سماجی بہتری کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے اور وہ ممالک تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں جو علم کو عملی پالیسیوں اور منصوبہ بندی میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تحقیق کے شعبے میں تعاون کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ شراکت دہائیوں پر محیط ہے، جسے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

جین میریٹ نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کو صرف تعلیمی مسائل ہی درپیش نہیں بلکہ صحت، موسمیاتی تبدیلی اور سماجی ناہمواری جیسے چیلنجز بھی موجود ہیں، جن کا حل تحقیق اور اجتماعی کاوشوں کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن ریفارمز کو کمیونٹی آف پریکٹس کے طور پر دیکھنا ہوگا جہاں حکومت، جامعات، محققین اور نجی شعبہ مل کر کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان یونیورسٹی سطح پر تعاون جاری ہے اور مستقبل میں اس دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی۔

انہوں نے اس بات کو بھی اہم قرار دیا کہ پلاننگ اور فنانسنگ کے لیے ریسرچرز کا وفاقی حکام کے ساتھ قریبی مشاورت میں ہونا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا بھر میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں اجتماعی کوششوں سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں۔

سمٹ سے وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو درپیش تعلیمی، سماجی اور معاشی حقائق پر کھل کر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر کوئی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا اور پالیسیوں کا تسلسل نہ ہو تو اصلاحات بھی ناکام ہو جاتی ہیں۔ ایک مسلسل اور جامع اصلاحاتی پروگرام کے بغیر ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

احسن اقبال نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئیڈیاز کی کمی نہیں مگر اصل مسئلہ عملدرآمد کا فقدان ہے، جبکہ کامیاب قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنے علم کو عملی شکل دیتی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ علم اور عمل کے درمیان موجود خلا کو صرف اصلاحات کے راستے پر چل کر ہی پُر کیا جا سکتا ہے۔ وزیر منصوبہ بندی نے سماجی پسماندگی کو ملک کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح اسے تیزی سے کم کرنا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ہر سال 65 لاکھ نئے بچے پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ چالیس فیصد بچے جسمانی طور پر کمزور اور ذہنی طور پر متاثر ہیں۔ ایسے حالات میں ترقی کا ہدف حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

احسن اقبال نے بتایا کہ ملک میں ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور خواندگی کی شرح محض ساٹھ فیصد ہے، جس کے ساتھ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونا ممکن نہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ترقی کی ترجیحات اور وسائل کی تقسیم سائنسی بنیادوں پر طے کرنا ہوگی، کیونکہ ملک کے سب سے پسماندہ اضلاع دہشت گردی سے بھی سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ان کے مطابق جب تک یکساں مواقع فراہم نہیں کیے جائیں گے، پائیدار ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے نصابِ تعلیم میں فوری اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ نصاب کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور اساتذہ کی تربیت بہتر بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ احسن اقبال نے امید ظاہر کی کہ اگر سنجیدگی سے اصلاحات کا عمل جاری رکھا گیا تو شاید “اڑان پاکستان” اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کر لے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں