ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پی ٹی آئی کے سابق رہنماؤں کی اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کیلئے خاموش کوششیں تیز

اسلام آباد: باخبر ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے سابق رہنماؤں فواد چوہدری، عمران اسماعیل اور محمود مولوی پر مشتمل ایک گروپ نے ایک بار پھر پسِ پردہ مفاہمتی کوششیں تیز کر دی ہیں، جن کا مقصد ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنا اور بالخصوص فوجی اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی لانا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ سرگرمیاں قومی مذاکراتی کمیٹی کے تحت کی جا رہی ہیں، جس میں چند بااثر اوورسیز پاکستانی بھی شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ تینوں رہنما ایک اعلیٰ ’’افسر‘‘ اور بعض حکومتی وزراء سے رابطے میں ہیں تاکہ پی ٹی آئی کیلئے محدود ریلیف حاصل کیا جا سکے اور بات چیت کی کوئی گنجائش نکالی جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار حکمتِ عملی کا مرکز اڈیالہ جیل کے بجائے کوٹ لکھپت جیل ہے، جہاں پی ٹی آئی کے کئی سینئر رہنما قید ہیں۔ ان میں شاہ محمود قریشی، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری، عمر چیمہ اور ڈاکٹر یاسمین راشد شامل ہیں، جو ماضی میں کھل کر مذاکرات کی حمایت کر چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ سیاسی بحران کا واحد قابلِ عمل حل بات چیت ہے، تاہم پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اس رائے کو مسترد کرتے ہوئے اب بھی سڑکوں پر احتجاج کو ہی واحد راستہ قرار دے رہے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ فواد چوہدری، عمران اسماعیل اور محمود مولوی کی کوشش ہے کہ پہلے مرحلے میں کوٹ لکھپت جیل میں قید رہنماؤں کی رہائی ممکن بنائی جائے، تاکہ پی ٹی آئی کے اندر ایسی قیادت سامنے آ سکے جو زمینی حقائق کو سمجھتے ہوئے زیادہ معتدل اور عملی رویہ اختیار کرنے پر آمادہ ہو۔

دی نیوز سے گفتگو میں فواد چوہدری نے تصدیق کی کہ پی ٹی آئی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان طویل محاذ آرائی کے خاتمے اور سیاسی ماحول کو معمول پر لانے کیلئے قومی مذاکراتی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ کوشش چند ہفتے قبل شروع ہوئی تھی، تاہم اڈیالہ جیل سے آنے والی ایک ٹویٹ کے بعد اس عمل کو شدید دھچکا لگا۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ کمیٹی کے ارکان کوٹ لکھپت جیل میں قید رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں اور متعدد بااثر اوورسیز پاکستانی بھی اس عمل کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کے بقول اگر مفاہمتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ اوورسیز پاکستانی پاکستان میں ایک ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ چند ماہ قبل پی ٹی آئی کے سابق رہنماؤں کا ایک اجلاس ہوا تھا جس میں سیاسی صورتحال کو معمول پر لانے پر غور کیا گیا۔ اس اجلاس میں فواد چوہدری، عمران اسماعیل، محمود مولوی کے علاوہ اسد عمر، شفقت محمود اور غلام سرور بھی شریک تھے، تاہم کسی مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق نہ ہو سکا، جس کے بعد مذکورہ تینوں رہنماؤں نے اپنی سطح پر اس منصوبے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں