کراچی: سوتے وقت منہ کھول کر سانس لینے کی عادت بظاہر عام اور معمولی سمجھی جاتی ہے، لیکن ماہرین صحت کے مطابق یہ عادت طویل مدت میں سنگین مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
بہت سے لوگ اس بات پر توجہ نہیں دیتے کہ نیند کے دوران منہ کھلا رہنے سے ان کی مجموعی صحت، خاص طور پر دانتوں اور منہ کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔
اگر کوئی شخص منہ کھول کر سوتا ہے تو صبح اٹھنے پر یا نیند کے دوران اچانک آنکھ کھلنے پر منہ میں شدید خشکی محسوس ہوتی ہے۔ اکثر لوگ اس کیفیت کو نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ منہ کی لعاب دہن نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
لعاب دہن منہ میں موجود بیکٹیریا کے پیدا کردہ تیزاب کو بے اثر بناتی ہے اور خوراک کے باریک ذرات کو صاف کرنے میں مدد دیتی ہے۔
منہ کھول کر سونے کا سب سے بڑا نقصان مستقل منہ کی بدبو کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جب نیند کے دوران منہ خشک رہتا ہے تو بدبو پیدا کرنے والے بیکٹیریا تیزی سے بڑھنے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں سانس سے ناگوار بو آنے لگتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ لعاب دہن کی کمی کے باعث دانتوں کو قدرتی تحفظ حاصل نہیں رہتا، جس سے بیکٹیریا آسانی سے تیزاب پیدا کرتے ہیں اور دانت آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ لوگ منہ کھول کر کیوں سوتے ہیں۔ زیادہ تر صورتوں میں اس کی وجہ ناک سے سانس لینے میں رکاوٹ ہوتی ہے۔ اسی لیے حل کا آغاز بھی ناک کی صفائی اور درست سانس لینے سے ہوتا ہے۔
اگر ناک بند رہتی ہو تو سونے سے پہلے بھاپ لینا یا ہلکا سلانس اسپرے استعمال کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ نزلہ، زکام یا الرجی کی صورت میں مناسب علاج کرانا بھی ضروری ہے۔
اگر یہ مسئلہ طویل عرصے سے موجود ہو، نیند کے دوران زور دار خراٹے آتے ہوں یا سانس رکنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو اسے ہرگز نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
ایسی صورت میں کان، ناک اور گلے کے ماہر یا ڈینٹسٹ سے مشورہ لینا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ بعض اوقات یہ ناک کی ہڈی، ٹانسلز یا سلیپ ایپنیا سے جڑی سنگین بیماری کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔