وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ جہاں پاکستان تحریک انصاف غلط ہو وہاں اخلاقی حدود میں رہ کر اس پر تنقید کی جانی چاہیے۔
لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف پی ٹی آئی ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ ن اور دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی تہذیب اور شائستگی کے دائرے میں رہتے ہوئے تنقید ہونی چاہیے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ حکومت پی ٹی آئی کے خلاف جو اقدامات کر رہی ہے، ان پر سب کو آواز اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں حق اور سچ کا ساتھ دینا ہر فرد کی ذمہ داری ہے اور اختلاف رائے کو ذاتی دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی نے لاہور کی بہت سیر کر لی ہے، اب خدا کے لیے واپس خیبر پختونخوا جائیں اور وہاں کے عوام کی داد رسی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے سیاسی بیانات دیے جا رہے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ کل رات بنگلہ دیش کی تصاویر لگا کر خوشیاں منائی گئیں، لیکن دن کی روشنی میں اسٹریٹ موومنٹ کی حقیقت سامنے آ گئی۔ ان کے مطابق اسٹریٹ موومنٹ والوں کو نعروں کا جواب دینے والا بھی کوئی نظر نہیں آیا، جس سے ساری صورتحال واضح ہو گئی ہے۔