اسرائیل نے اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (انروا) کو حاصل سفارتی استثنیٰ ختم کر دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ نے انروا کے لیے سفارتی استثنیٰ ختم کرنے سے متعلق قانون کی منظوری دے دی، جس کے بعد اس ادارے کے خلاف اسرائیلی عدالتوں میں قانونی کارروائی ممکن ہو جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق اس قانون کے تحت اسرائیلی حکام مقبوضہ بیت المقدس میں واقع انروا کے دو دفاتر ضبط کر سکیں گے، جبکہ اسرائیلی کمپنیوں کو انروا کے اداروں کو پانی، بجلی اور مالیاتی خدمات فراہم کرنے سے بھی روک دیا جائے گا۔
اس حوالے سے انروا کا کہنا ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے اس ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ انروا پورے مشرقِ وسطیٰ میں لاکھوں فلسطینیوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل گزشتہ سال ہی انروا پر پابندی عائد کر چکا تھا۔