ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان کی روسی صدر کی رہائشگاہ پر مبینہ حملے کی سخت مذمت، امن کے لیے خطرہ قرار

اسلام آباد: پاکستان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائشگاہ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اس کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب مختلف عالمی طاقتیں تنازعات کے حل اور امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں واضح کیا کہ روسی صدر کی رہائشگاہ کو نشانہ بنانے جیسا اقدام ناقابل قبول ہے اور اس کی کوئی بھی صورت امن کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس موقع پر روسی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ہر اس عمل کو مسترد کرتا ہے جو عالمی سلامتی کے ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے مذاکرات، تحمل اور سفارتی ذرائع کے ذریعے تنازعات کے حل کا حامی رہا ہے اور آئندہ بھی اسی مؤقف پر قائم رہے گا۔

دوسری جانب روسی حکام نے اس واقعے کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے یوکرین پر براہِ راست الزامات عائد کیے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے مطابق یوکرین کی جانب سے نووگوروڈ ریجن میں واقع صدر ولادیمیر پیوٹن کی سرکاری رہائشگاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 28 اور 29 دسمبر کی درمیانی شب طویل فاصلے تک مار کرنے والے درجنوں ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا، تاہم روس کے جدید فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام ڈرونز کو تباہ کر دیا اور کسی بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔

روسی وزیر خارجہ نے اس کارروائی کو ریاستی دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی اشتعال انگیز کارروائیاں اگر جاری رہیں تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ روسی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق رکھتی ہے۔

اُدھر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کی جانب سے عائد کیے گئے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے اس طرح کے دعوے دراصل عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور جاری سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں۔

زیلنسکی کے مطابق ایسے بیانات کا مقصد ممکنہ طور پر یوکرینی دارالحکومت کیف میں سرکاری عمارتوں پر حملوں کے لیے جواز پیدا کرنا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری، بالخصوص امریکا، سے اپیل کی ہے کہ روسی دھمکیوں اور بیانات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں