امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی مرتبہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے رواں سال آٹھ جنگیں ختم کروائی ہیں، تاہم ماہرین اور بین الاقوامی حقائق اس دعوے سے متفق نہیں ہیں۔
امریکی جریدے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹرمپ کے اس دعوے پر تنقید اس وقت زور پکڑ رہی ہے جب حال ہی میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔
ٹرمپ جن تنازعات کو ختم کرنے کا کریڈٹ لیتے ہیں، ان میں بعض ایسے بھی شامل ہیں جو دراصل مکمل جنگ نہیں تھیں۔ افریقہ کے ملک کانگو میں روانڈا کی حمایت یافتہ باغیوں اور سرکاری افواج کے درمیان لڑائی اب بھی جاری ہے، اور امن معاہدے کو عمل درآمد کے لیے خطرات لاحق ہیں۔
اسرائیل اور حماس کے معاملے میں ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کو اپنا کارنامہ قرار دیا، تاہم اسرائیل کی فوجی کارروائیاں اور امدادی مسائل برقرار ہیں۔ مستقل امن اور دو ریاستی حل تک پہنچنے کا راستہ طویل اور پیچیدہ ہے، جس میں حماس کو غیر مسلح کرنا، بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی اور غزہ کے انتظامات جیسے مسائل ابھی حل طلب ہیں۔
اسی طرح اسرائیل اور ایران کے درمیان جون میں 12 روزہ کشیدگی کے خاتمے کا کریڈٹ بھی ٹرمپ لیتے ہیں، مگر ماہرین کے مطابق یہ صرف عارضی وقفہ تھا اور دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ برقرار ہے۔
مصر، ایتھوپیا اور سوڈان کے درمیان نیل ڈیم کے تنازع میں بھی مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا، جبکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی میں چھ دن کی مختصر لڑائی کے بعد جنگ بندی ہوئی، جس پر بھارت نے ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کیا۔ سربیا اور کوسوو میں تنازع بھی حقیقی جنگ کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔
آرمینیا اور آذربائیجان کے رہنماؤں نے اگست میں وائٹ ہاؤس میں ایک معاہدے پر دستخط کیے، تاہم امن معاہدے کی حتمی توثیق اور پارلیمانی منظوری ابھی باقی ہے۔ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ٹرمپ کی مداخلت سے عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی، لیکن دسمبر میں دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد تنازعات میں کردار ادا کیا، تاہم “آٹھ جنگیں ختم کرنے” کا دعویٰ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے اور حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔