لاہور کے تاریخی شالیمار باغ میں سرکاری سرپرستی میں منعقد ہونے والی میوزک اینڈ کلچرل نائٹ کے دوران متنازع گانا گانے پر گلوکار فراز خان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق والڈ سٹی اتھارٹی کے زیر اہتمام شالیمار باغ میں ایک عوامی ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا تھا، جس میں قوال فراز خان نے اپنے ہمنواؤں کے ساتھ قوالی پیش کی۔ پروگرام کے دوران اڈیالہ جیل کے قیدی نمبر 804 سے منسوب گانا گانے پر انتظامیہ نے کارروائی عمل میں لائی۔
اس واقعے پر انچارج شالیمار باغ ضمیر کی مدعیت میں تھانہ شالیمار میں ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی باقاعدہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب قوال فراز خان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے یہ گانا سامعین کی فرمائش پر گایا تھا، تاہم اس کے باوجود ان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ شالیمار باغ میں منعقدہ یہ پروگرام عوام کے لیے کھلا تھا۔ واقعے کے بعد ثقافتی تقریبات کے ضابطوں اور اظہارِ فن کی آزادی سے متعلق نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے اس اقدام پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔