ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

وزیراعظم کی رمضان المبارک میں عوام دوست پیکیج تیار کرنے کی ہدایت

اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان المبارک میں عوام دوست امدادی پیکیج تیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت رمضان المبارک کے لیے مجوزہ وفاقی رمضان پیکیج اور گزشتہ سال کے پیکیج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم نے آنے والے رمضان کے لیے عوام بالخصوص غریب اور سفید پوش طبقے کے لیے زیادہ مؤثر، شفاف اور سودمند پیکیج تیار کرنے کی واضح ہدایات جاری کیں۔

اجلاس میں وزیراعظم نے گزشتہ سال کے رمضان پیکیج پر مستند عالمی آڈٹ ادارے کی جانب سے دی گئی رپورٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ شفافیت اور مؤثر نگرانی حکومت کی پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ گزشتہ سال وفاقی حکومت نے رمضان پیکیج کے ذریعے غریب عوام کو ارزاں نرخوں پر اشیائے خور و نوش کی فراہمی کے لیے ایک نیا اور شفاف نظام متعارف کرایا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے مالی بے ضابطگیوں، بدنظمی اور مستحق افراد کے استحصال کا جو نظام چلا آ رہا تھا، اسے موجودہ حکومت نے مرحلہ وار شفاف اور منظم ڈھانچے میں تبدیل کیا ہے، جس سے حقیقی مستحقین کو فائدہ پہنچا۔

وزیراعظم نے تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت دی کہ آئندہ رمضان المبارک کے لیے پچھلے سال سے بھی زیادہ بہتر، جامع اور مؤثر پیکیج تیار کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ غریب اور سفید پوش خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوٹیلٹی اسٹورز میں بدعنوانی کے باعث ماضی میں مستحق افراد اپنے حق سے محروم رہے، اس لیے حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ سماجی تحفظ اور مالی معاونت کے تمام اقدامات مکمل شفافیت کے ساتھ کیے جائیں۔

اجلاس میں وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رمضان پیکیج کے تحت امدادی رقوم کی تقسیم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جائے تاکہ مستحق افراد کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو اور انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے رقوم کی فراہمی نہ صرف شفافیت کو یقینی بنائے گی بلکہ کیش لیس معیشت کے فروغ میں بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ وزیراعظم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی شمولیت کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے رمضان پیکیج کی تقسیم مزید مؤثر ہو سکے گی۔

وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو خصوصی ہدایت دی کہ امدادی رقوم کے دائرہ کار کو زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جائے تاکہ زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے جامع حکمت عملی، عملی اقدامات اور سفارشات جلد پیش کرنے کی ہدایت دی، جبکہ مؤثر نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور منظم مانیٹرنگ سسٹم وضع کرنے پر بھی زور دیا۔

اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال رمضان پیکیج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن عالمی شہرت یافتہ آڈٹ فرم نے کی، جس نے حکومتی پیکیج کو شفاف اور مؤثر قرار دیا۔ بریفنگ میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سوشل پروٹیکشن والٹ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مستحق افراد کو مفت سمز فراہم کی جا رہی ہیں، اور مارچ 2026 سے تمام امدادی رقوم انہی سمز کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر تقسیم کی جائیں گی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر تخفیف غربت سید عمران احمد شاہ، وفاقی وزیر قومی تحفظ خوراک رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چیئرمین نادرا، چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں