ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکا ایران میں سائبر حملوں کی تیاری کر رہا ہے: برطانوی اخبار کا دعویٰ

واشنگٹن/تہران: برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف ممکنہ سائبر کارروائیوں کی تیاریوں میں مصروف ہے، جن کا مقصد ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مبینہ کریک ڈاؤن پر دباؤ بڑھانا بتایا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران میں سیکڑوں مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات کے ردِعمل میں ایسے غیر روایتی آپشنز پر غور کر رہی ہے جو براہِ راست فوجی تصادم کے بغیر دباؤ ڈال سکیں۔

امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی قیادت کو مظاہرین کے خلاف تشدد پر جوابدہ بنانے کے لیے سائبر آپریشنز کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

دی ٹیلی گراف نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مجوزہ سائبر اقدامات تہران کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال کے جواب میں زیر غور ہیں۔ ان کارروائیوں کا ہدف ایرانی ریاستی نظام کو تکنیکی اور اطلاعاتی سطح پر نقصان پہنچانا ہو سکتا ہے، تاکہ حکومت پر اندرونی اور بیرونی دباؤ میں اضافہ کیا جا سکے۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف مختلف فوجی اور غیر فوجی آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے، تاہم حکام نے اس مرحلے پر براہِ راست فوجی حملے کو قبل از وقت اور خطرناک قرار دیا ہے۔ اسی تناظر میں غیر مہلک اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے، جن میں سائبر محاذ پر کارروائیاں نمایاں ہیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ منگل کے روز اعلیٰ امریکی حکام صدر ٹرمپ کو ان آپشنز پر تفصیلی بریفنگ دیں گے، جن میں آن لائن حکومت مخالف بیانیے کو تقویت دینا اور ایرانی فوجی و شہری تنصیبات کے خلاف خفیہ سائبر ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال جیسے اقدامات شامل ہیں۔

اس اہم بریفنگ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کی شرکت متوقع ہے۔

دوسری جانب ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے باعث انٹرنیٹ بلیک آؤٹ تیسرے روز بھی برقرار ہے، جس کے نتیجے میں عوام کا بیرونی دنیا سے رابطہ شدید متاثر ہو رہا ہے، سوشل میڈیا اور مواصلاتی پلیٹ فارمز کی بندش سے مظاہرین کی سرگرمیوں پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ادھر امریکی صدر نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے ایلون مسک کی خدمات حاصل کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایلون مسک اس شعبے میں خاص مہارت رکھتے ہیں اور ان کی کمپنی جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے نمایاں صلاحیت رکھتی ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اب روایتی جنگ کے بجائے ڈیجیٹل اور سائبر محاذ کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں آنے والے دنوں میں صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں