اسلام آباد: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹوئٹ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹ کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جسے کارروائی کے بعد آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دیا گیا۔
کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی، جہاں ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے جب کہ ایمان مزاری طبی وجوہات کے باعث حاضری سے قاصر رہیں۔
عدالت میں سماعت کے آغاز پر ہادی علی چٹھہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمان مزاری اس وقت شدید بخار میں مبتلا ہیں اور ان کا درجہ حرارت 104 ڈگری تک پہنچ چکا ہے، جس کی وجہ سے وہ عدالت آنے کے قابل نہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ انہیں خود بھی بخار ہے، تاہم وہ عدالت میں اس لیے پیش ہوئے تاکہ یہ تاثر نہ جائے کہ حاضری سے گریز کیا جا رہا ہے۔
سماعت کے دوران جج محمد افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ ایمان مزاری کی حاضری سے استثنا کے لیے باقاعدہ تحریری درخواست دائر کی جائے، جس کے بعد عدالت اس پر غور کرے گی۔ عدالت نے تحریری درخواست آنے تک سماعت میں مختصر وقفہ کر دیا۔
وقفے کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی، جس میں ہادی علی چٹھہ کی جانب سے ایمان مزاری کی حاضری سے استثنا کی تحریری درخواست عدالت میں جمع کرائی گئی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایمان مزاری کی طبی حالت اس وقت عدالت میں پیش ہونے کی اجازت نہیں دیتی، اس لیے انہیں عارضی طور پر حاضری سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل اور پیش کی گئی درخواست کا جائزہ لینے کے بعد ایمان مزاری کی حاضری سے استثنا کی درخواست منظور کر لی۔ بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 14 جنوری تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف این سی سی آئی اے کی جانب سے متنازع ٹویٹ کے حوالے سے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔