تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران نہ صرف مذاکرات کے لیے تیار ہے بلکہ کسی بھی صورت حال میں جنگ کے لیے بھی مکمل طور پر تیار رہتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ گذشتہ چند دنوں میں ملک بھر کے پرامن مظاہرے پرتشدد واقعات میں تبدیل ہوگئے، جن کے دوران دو ہفتوں کے عرصے میں تقریباً 350 مساجد کو آگ لگائی گئی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ تشدد میں اضافے کے دوران دہشت گرد عناصر نے نہ صرف مظاہرین بلکہ سکیورٹی فورسز کو بھی نشانہ بنایا، تاہم صورتحال اب مکمل کنٹرول میں ہے، اس کے باوجود ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہروں کے دوران زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا اور وہ مظاہرین کے جائز مطالبات کو بھی سن رہے تھے۔
عراقچی نے الزام لگایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کی بات کے بعد احتجاجات کو جان بوجھ کر خونریز شکل دی گئی تاکہ امریکا کو مداخلت کا بہانہ فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات کے میز پر بھی تیار ہے اور اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے جنگ کی صورت میں بھی کوئی کمی نہیں برتے گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے اور اس کے انتظامات جاری ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی دھمکی دی کہ امریکا ایران میں ممکنہ فوجی کارروائی کے آپشنز پر غور کر رہا ہے، جو بظاہر بات چیت سے قبل اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
عراقچی کے اس بیان سے ایک واضح پیغام یہ بھی ملتا ہے کہ ایران دونوں محاذوں پر اپنی حکمت عملی تیار رکھتا ہے: ایک طرف عالمی سطح پر بات چیت کے دروازے کھلے ہیں، تو دوسری جانب ملکی خودمختاری اور سکیورٹی کے لیے سخت موقف اختیار کیا جائے گا۔