اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہدایت کی ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 48 گھنٹوں کے اندر ہائیکورٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جائیں۔ یہ حکم جسٹس محسن اختر کیانی نے پی ٹی سی ایل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جاری کیا۔
عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ بارز کو بھی رولز کی کاپیاں فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ دوران سماعت، وکیل سے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز کی تفصیلات کے بارے میں استفسار کیا گیا تو وکیل نے لاعلمی ظاہر کی۔ جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیے کہ “ہم نے وہ ہائیکورٹ رولز بنائے جو ہمیں بھی نہیں ملے، میں جج ہوں اور مجھے نہیں ملے، آپ کو کیسے ملیں گے۔”
جسٹس نے مزید کہا کہ فل کورٹ نے رولز منظور کیے مگر انہیں عوام کے لیے جاری نہیں کیا گیا، اور رولز ایک سیکریٹ ڈاکومنٹ قرار دیا۔ عدالت نے وکیل کو ہدایت دی کہ رجسٹرار کو درخواست دے کر رولز حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
معزز جج نے واضح کیا کہ 48 گھنٹوں میں رولز ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہ کیے گئے تو رجسٹرار کے خلاف کریمنل پروسیجر کا آغاز کیا جائے گا۔