ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بجلی کےنام پرعوام کی جیبوں پر2 ہزار200 ارب کا ڈاکا

کراچی:بجلی کے کیپیسٹی چارجز سے متعلق ہوشربا انکشاف، حکومت نے عوام کی جیبوں سے 2 ہزار 200 ارب روپے اس بجلی کے نکال لیے جو پیدا ہی نہیں کی گئی۔

 بزنس ریکارڈر میں شائع ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے بتایا ہے کہ پاکستان کے عوام پر 2200 ارب روپے سالانہ کی ”گھوسٹ بجلی“ کا ناقابلِ برداشت بوجھ لادا جا رہا ہے۔

یہ وہ بجلی ہے جو نہ پیدا ہوتی ہے، نہ استعمال ہوتی ہے مگر اس کے بل عوام کو بھرنے پڑتے ہیں۔ یہ سب کچھ نام نہاد کیپیسٹی چارجز کے نام پر کیا جا رہا ہے۔

 دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں گھوسٹ اسکولوں، گھوسٹ اسپتالوں اور گھوسٹ سرکاری ملازمین کے ساتھ اب گھوسٹ بجلی بھی نمودار ہو چکی ہے۔اس مسلسل لوٹ مار کی پشت پناہی ریگولیٹر نیپرا خود کر رہا ہے۔

نیپرا عوام کی محافظ نہیں رہی، بلکہ آئی پی پیز کے مفادات کی محافظ بن چکی ہے۔ آئی پی پیز عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں اور مہنگی بجلی نے صنعت سمیت پوری معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔

یہ مسئلہ اب قومی سلامتی تک جا پہنچا ہے کیونکہ غیر معمولی مہنگائی ملک میں کسی بھی وقت بڑے عوامی احتجاج کو جنم دے سکتی ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں