لاہور:سابق گورنر سندھ کے مطابق عمران خان حکومت کے خاتمے سے قبل 17.2 ارب ڈالرز ذخائر تھے ، پاکستان تب نہیں اسحاق ڈار کے وزیر خزانہ بننے کے بعد جون 2023 میں ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچا جب زرمبادلہ ذخائر صرف 2.9 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔
سابق گورنر سندھ اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما محمد زبیرعمر کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وجہ سے لک ڈیفالٹ کے دہانے پر گیا۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اپریل 2022 میں نہیں بلکہ جون 2023 میں ڈیفالٹ کے دِہانے پر پہنچا تھا، اسکی وجہ تھی اسحاق ڈار جب وہ ستمبر 2022 میں وزیرخزانہ بنے تھے تو انہوں نے اعلانیہ آئی ایم ایف کو یہاں سے بھگایا تھا اور پھر جون 2023 تک زرمبادلہ کے ذخائر صرف 2.9 ارب ڈالر رہ گئے۔
جنوری 2022 میں جو ذخائر 17.2 ارب ڈالر تھے وہ کم ہو کر جون 2023 میں 2.9 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔اپنے ایک اور بیان میں سابق گورنر سندھ اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سینئر رہنما محمد زبیر نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز حکومت کے سفارتی کامیابی کے دعوﺅں کی قلعی کھول دی۔
محمد زبیر نے کہا کہ “پاکستانیوں کو دبئی کا ویزہ نہیں ملتا اور حکومت کہہ رہی ہے عزت بڑھ گئی ہے، میں سابق گورنر ہوں، مجھے آرام سے ویزہ نہیں مل سکتا، 4 سال پہلے ہر کسی کو ویزہ مل جاتا تھا۔”