امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو امریکا بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
اپنے ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب بڑی فورس بھیجی جا رہی ہے، تاہم امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوجی اثاثے مشرقِ وسطیٰ منتقل کیے جا رہے ہیں تاکہ خطے میں سکیورٹی صورتحال کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گرین لینڈ کی سکیورٹی کے معاملے پر نیٹو کے ساتھ مل کر کام کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
امریکی صدر نے عالمی سفارتی سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے جبکہ سال کے اختتام پر چینی صدر کے امریکا آنے کا بھی امکان ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ دورے دوطرفہ تعلقات اور عالمی معاملات پر اہم پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔
روس یوکرین جنگ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یوکرینی صدر زیلنسکی اور روسی صدر پیوتن دونوں معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے جلد صورتحال واضح ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا عالمی امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔