مالی سال 2025-26 کے ابتدائی 7 ماہ میں ٹیکس وصولیوں میں نمایاں کمی سامنے آنے کے بعد حکومت اور مالیاتی ادارے شدید دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے جنوری کے اختتام تک مجموعی ٹیکس وصولیاں 7.15 کھرب روپے رہیں، جو نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں 374 ارب روپے کم ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کمرشل بینکوں کو ہفتہ کے روز بھی کھلا رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سرکاری واجبات اور ٹیکس وصول کیے جا سکیں۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اگرچہ رواں مالی سال کی ٹیکس وصولیاں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد زیادہ ہیں، تاہم مقررہ اہداف کے حصول میں مسلسل ناکامی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ ادارے کے مطابق صرف جنوری کے آخری دنوں میں سپر ٹیکس کی مد میں مزید 50 ارب روپے کی وصولی کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ کئی بڑی کمپنیاں اپنے بقایاجات جمع کرا رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود مجموعی سالانہ شارٹ فال 597 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے اس تناظر میں واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام کمرشل بینک، بشمول نیشنل بینک کی کسٹمز کلیکشن برانچز، ہفتہ کو صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کھلی رہیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ آن لائن بینکنگ، موبائل ایپس، اے ٹی ایمز اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ٹیکس اور ڈیوٹیز کی ادائیگی کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق 31 جنوری کو نِفٹ کے ذریعے سرکاری لین دین کی خصوصی کلیئرنگ کے لیے بینک ضرورت کے مطابق اضافی وقت تک بھی کھلے رکھے جا سکتے ہیں۔
ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم خود ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق ابھی تک حکومتی دعوؤں کے مطابق نظر نہیں آ رہے۔ حال ہی میں آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کے مقدمے میں حکومت کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ایف بی آر کو تقریباً 190 ارب روپے کی وصولی کی اجازت دی ہے، جسے حکومت ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے۔