سرینگر : کشمیری رہنما میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے اتراکھنڈ، ہماچل اور ہریانہ سمیت شمالی ہند کی مختلف ریاستوں میں کشمیریوں خاص کر طلبہ اور شال فروشوں پر ہو رہے حملوں اور وادی کشمیر میں مساجد کی پروفائلنگ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس طرز عمل کو نہایت ہی تشویشناک قرار دے کر ایسے واقعات کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے ۔
جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق نے اتراکھنڈ میں 18 سالہ تابش نامی ایک نوجوان کشمیری شال فروش اور اس کے بھائی دانش پر لوہے کی سلاخوں کا استعمال کرکے اس وحشیانہ حملے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔
میرواعظ نے کہا کہ یہ واقعہ جموں و کشمیر سے باہر عام کشمیریوں کو درپیش فرقہ وارانہ پروفائلنگ اور دشمنی کے پریشان کن انداز کی عکاسی کرتا ہے۔ حال ہی میں ہریانہ، ہماچل پردیش اور ملک کے دیگر حصوں سے کشمیری تاجروں، مزدوروں اور طلباءپر ہراساں کرنے اور حملوں کے اسی طرح کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
مولوی عمر فاروق نے مزید کہا کہ ہزاروں کشمیری، سردیوں کے ایام میں ایمانداری سے روزی کمانے کے لیے مختلف ریاستوں کا سفر کرتے ہیں اور ایسے کمزور لوگوں کو نشانہ بنانا فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کے بعد کشمیری طلباء، تاجروں، پیشہ ور افراد اور ہندوستان کے مختلف حصوں میں تعلیم حاصل کرنے والے اور کام کرنے والے دیگر افراد کے لیے خطرہ بڑھ جاتا ہے جس سے ان میں اور ان کے خاندانوں میں بے چینی اور خوف میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
میرواعظ نے حکام پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور کشمیریوں کے باہر کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔