واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ چین کے ساتھ کاروبار کرنا ان کے لیے ’انتہائی خطرناک‘ ہو سکتا ہے۔
بی بی سی کے مطابق امریکی صدر کا یہ بیان برطانیہ اور چین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے کیے گئے ان معاہدوں کے بعد سامنے آیا ہے جن کا اعلان برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد کیا گیا۔
یاد رہے کہ برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر اپنے دورہ چین کے تیسرے روز اس وقت شنگھائی میں موجود ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی کو اپنا دوست قرار دیا اور کہا کہ وہ چینی صدر کوبہت قریب سے جانتے ہیں۔
برطانیہ کے کاروباری امور کے وزیر سر کرس برائنٹ نے ٹرمپ کے بیان کو ’غلط‘ قراردیتے ہوئے کہا کہ عالمی منظرنامے پر چین کی موجودگی کو نظرانداز کرنا برطانیہ کے لیے سراسر حماقت ہوگی۔
انھوں نے مزید کہا کہ یقیناً ہم چین کے ساتھ تعلقات میں پوری آگاہی کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔ برطانوی وزیر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ اپریل میں چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔
ٹرمپ کے ریمارکس پر ردِعمل دیتے ہوئے ڈائوننگ سٹریٹ نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن کو اس دورے اور اس کے مقاصد کے بارے میں پہلے سے آگاہ کیا گیا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کینیڈا کے حوالے سے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کینیڈا کے لیے مزید زیادہ خطرناک ہے۔ کینیڈا کی حالت اچھی نہیں، وہ بہت خراب کارکردگی دکھا رہا ہے اور آپ چین کو اس کا حل نہیں سمجھ سکتے۔
یاد رہے کہ اسی ہفتے کے آغاز میں امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ حالیہ معاشی معاہدوں پر عمل کیا تو اس پر محصولات عائد کیے جائیں گے۔ یہ معاہدے کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی کے بیجنگ کے حالیہ دورے کے دوران طے پائے تھے۔