بدنامِ زمانہ امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلز میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام سامنے آنے کے بعد بھارت کی سیاسی فضا شدید ہلچل کا شکار ہو گئی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اس انکشاف کے بعد نہ صرف بھارتی اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف متحرک ہو گئی ہیں بلکہ پارلیمنٹ کے اندر بھی شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ایپسٹین جیسے متنازع اور عالمی سطح پر بدنام کردار سے کسی بھی قسم کا تعلق انتہائی سنگین معاملہ ہے، جس پر خاموشی اختیار کرنا ممکن نہیں۔
بھارتی پارلیمنٹ میں عام آدمی پارٹی، کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے دو ٹوک جواب کا مطالبہ کر دیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما سنجے سنگھ کا کہنا ہے کہ اگر ایپسٹین فائلز میں وزیراعظم کا نام آیا ہے تو اس کی وضاحت دینا حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ کسی فرد واحد کا نہیں بلکہ بھارت کے عالمی تشخص اور سیاسی ساکھ سے جڑا ہوا ہے۔
کانگریس کی رہنما پرینکا گاندھی نے بھی نریندر مودی کے ایپسٹین سے ممکنہ روابط پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ایک بدنام جنسی مجرم سے بھارتی وزیراعظم کا رابطہ کس نوعیت کا تھا اور اس کے پس منظر میں کیا مقاصد کارفرما تھے۔ کانگریس قیادت کا کہنا ہے کہ حکومت کی خاموشی شکوک و شبہات کو مزید بڑھا رہی ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے ایپسٹین کی تحریروں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایپسٹین نے اپنی دستاویزات میں یہ ذکر کیا کہ نریندر مودی نے اسرائیل میں امریکی صدر کے فائدے کے لیے تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
اس بیان نے بھارتی سیاست میں تنازع کو مزید ہوا دے دی ہے اور حکومت پر دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہو چکی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایپسٹین فائلز میں نریندر مودی کا نام سامنے آنا بھارتی سیاست کے لیے ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت اور تسلی بخش وضاحت نہ دی تو یہ معاملہ نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
اپوزیشن جماعتیں اس معاملے کو آنے والے دنوں میں بھرپور انداز میں عوامی سطح پر اٹھانے کا عندیہ دے چکی ہیں، جس سے بھارتی سیاست میں مزید ہلچل متوقع ہے۔