امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سابق صدر باراک اوباما اور سابق خاتونِ اول مشیل اوباما کی توہین آمیز اے آئی ویڈیو کے سوشل میڈیا پر شیئر ہونے نے امریکہ میں ایک نئی تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر اوباما اور خاتون اول مشال اوباما کی انتہائی توہین آمیز اے آئی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پرشیئر کی تاہم ویڈیو وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر شدید عوامی تنقید سامنے آئی اور اس عوامی ردعمل کے بعد صدر ٹرمپ کو یہ پوسٹ ڈیلیٹ کرنا پڑی۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اس ویڈیو میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے بے بنیاد اور سازشی الزامات بھی شامل تھے جبکہ آخری منظر میں باراک اوباما اور ان کی اہلیہ کو ایک جنگل میں نامناسب انداز میں پیش کیا گیا ہے، ویڈیو میں باراک اوباما اور مشیل اوباما کی تصاویر دو بندروں کی شکل میں تبدیل کر دی گئی تھیں، جس پر نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں شدید تنقید ہوئی۔
ریپبلکن سینیٹر ٹم اسکاٹ نے ویڈیو کو صدر کی جانب سے سب سے زیادہ نسل پرستانہ اقدام قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی اس اقدام پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر امریکی، حتیٰ کہ ریپبلکن رہنماؤں کو بھی اس کی سخت مذمت کرنی چاہیے۔
ابتدائی طور پر وائٹ ہاؤس نے تنقید کو “جعلی غم و غصہ” قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ صرف ایک وائرل میم ہے جس میں ٹرمپ کو جنگل کا بادشاہ یعنی شیر اور ڈیموکریٹس کو رعایا کے طور پر دکھایا گیا، تاہم عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد وائٹ ہاؤس نے موقف تبدیل کرتے ہوئے بتایا کہ ویڈیو غلطی سے شیئر کی گئی تھی اور اسے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے اس واقعے کے بعد کہا کہ انہوں نے پوسٹ مکمل طور پر نہیں دیکھی اور جیسے ہی حقیقت کا پتہ چلا، پوسٹ کو ہٹا دیا گیا۔ میں ہزاروں چیزیں دیکھتا ہوں اور یہ کوئی غلطی نہیں تھی۔
یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں بلیک ہسٹری ماہ (Black History Month) منایا جا رہا ہے اور باراک اوباما ملک کے پہلے سیاہ فام صدر ہونے کے ناطے تاریخی اہمیت رکھتے ہیں، جس نے اس معاملے کی حساسیت اور ردعمل کو مزید بڑھا دیا ہے۔