ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بنگلادیش میں چینی اثرورسوخ سے امریکا پریشان، نیا منصوبہ تیار

بنگلادیش سے چین کے بڑھتے دفاعی تعلقات کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا متبادل دفاعی منصوبہ تیار کر رہا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈھاکا میں واشنگٹن کے سفیر نے خبر ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ امریکا کو جنوبی ایشیا میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر تشویش ہے اور وہ بنگلا دیش کی اگلی حکومت کو چینی ہارڈویئر کے متبادل کے طور پر امریکی اور اتحادی دفاعی نظام پیش کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

چین نے حال ہی میں بنگلا دیش کے ساتھ بھارت کی سرحد کے قریب ڈرون فیکٹری بنانے کے لیے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس سے غیر ملکی سفارت کاروں کو تشویش ہوئی ہے۔

بنگلا دیش JF-17 تھنڈر لڑاکا طیارے خریدنے کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے جو کہ چین کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر تیار کیا گیا ایک ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے۔

امریکی سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا کو جنوبی ایشیا میں بڑھتے ہوئے چینی اثر و رسوخ پر تشویش ہے اور وہ بنگلا دیشی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ چین کے ساتھ مخصوص قسم کی مصروفیات کے خطرات سے واضح طور پر آگاہ کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید تفصیلات پیش کیے بغیر کہا کہ امریکا بنگلا دیش کو اپنی فوجی صلاحیت کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کرنے کے لیے بہت سے اختیارات پیش کرتا ہے جس میں امریکی نظام اور اتحادی شراکت داروں کی جانب سے چینی سسٹمز کے متبادل فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ جامع تزویراتی شراکت داروں کی حیثیت سے چین اور بنگلا دیش نے سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کیا ہے جس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچا ہے۔

وزارت نے رائٹرز کو ایک بیان میں کہا کہ “ہمارا باہمی فائدہ مند اور دوستانہ تعاون کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی ہم کسی تیسرے فریق کی مداخلت کو برداشت کریں گے۔”

سفیر نے کہا کہ واشنگٹن “جو بھی حکومت بنگلا دیشی عوام منتخب کریں گے” ان کے ساتھ کام کرے گا۔ یہ دوڑ سابق اتحادیوں، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور اسلامی جماعت اسلامی کی زیر قیادت دو اتحادوں کے درمیان ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • مرزا ندیم بیگ

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں