ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سرکاری اداروں کی ضروریات اور بڑھتے قرضے ملکی معیشت کیلیے چیلنج بن گئے

اسلام آباد: وفاقی وزارتِ خزانہ نے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سرکاری اداروں کے بڑھتے ہوئے قرضے اور مالی ضروریات قومی معیشت کیلئے سنجیدہ چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران سرکاری ملکیتی اداروں کا مجموعی منافع کم ہو کر تقریباً 709 ارب روپے رہ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی ظاہر کرتا ہے۔

ایک دستاویز کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے گزشتہ مالی سال میں ان اداروں کو تقریباً 2.1 کھرب روپے کی مالی معاونت فراہم کی، تاہم اس کے بدلے میں حاصل ہونے والی خالص نقد واپسی نہایت محدود رہی۔

اسی طرح خالص مالی بہاؤ میں نمایاں کمی نے پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی ضمانتوں، سبسڈی اور گردشی قرضوں پر انحصار نے قومی خزانے پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔

خصوصاً توانائی کے شعبے میں بڑھتے واجبات اور ادائیگیوں میں تاخیر نے لیکویڈیٹی کے مسائل کو مزید گہرا کیا ہے، جس کے اثرات تیل و گیس اور بجلی کی کمپنیوں پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

وزارتِ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سرکاری اداروں میں اصلاحات، شفافیت اور مالی نظم و ضبط کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ صورتحال ملکی مالیاتی استحکام اور معاشی ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے۔

دوسری جانب اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیدار بہتری کے لیے ساختی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں