اسلام آباد:وزیرِاعظم شہباز شریف نے بدعنوانی کے عالمی اشاریے میں پاکستان کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے آزاد ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ ان شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں ملک انسدادِ بدعنوانی اقدامات میں پیچھے ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ Transparency International کی تازہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد کیا گیا، جس میں پاکستان کی کارکردگی کو ملے جلے رجحانات کا حامل قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی کے برعکس حکومت نے بین الاقوامی جائزوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کی روشنی میں اصلاحاتی اقدامات کا راستہ اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ وزیرِاعظم چاہتے ہیں کہ کرپشن سے متعلق نشاندہی شدہ خامیوں کو وفاقی و صوبائی سطح پر مشاورت سے دور کیا جائے اور ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر جامع قومی حکمتِ عملی تیار کی جائے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 100 میں سے 28 نمبر حاصل کیے اور 182 ممالک میں 136ویں نمبر پر رہا، جبکہ گزشتہ سال اس کا اسکور 27 اور درجہ بندی 135 تھی،معمولی بہتری کے باوجود مجموعی درجہ بندی میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی، جو ادارہ جاتی چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ اسکور آٹھ عالمی ذرائع کے ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کیا گیا، جن میں حکمرانی، شفافیت اور احتساب کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
ان ذرائع میں سے ایک نے بہتری ظاہر کی، تاہم نفاذِ قانون اور قانون کی بالادستی سے متعلق اشاریوں میں واضح پیش رفت نظر نہیں آئی۔ مثال کے طور پر World Economic Forum کے ایگزیکٹو اوپینین سروے میں پاکستان کا اسکور 33 سے کم ہو کر 32 ہو گیا، جس سے کاروباری طبقے کے رشوت اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال سے متعلق خدشات ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی طرح World Justice Project کے رول آف لا انڈیکس میں اسکور 26 سے کم ہو کر 25 رہ گیا، جو احتسابی نظام کی کمزوریوں کی علامت ہے۔
پانچ دیگر اداروں، جن میں World Bank اور Bertelsmann Stiftung سمیت مختلف عالمی تجزیاتی ادارے شامل ہیں، نے کسی نمایاں تبدیلی کی نشاندہی نہیں کی، پاکستان کا مجموعی اسکور 28 عالمی اوسط 42 سے خاصا کم ہے، جبکہ کم بدعنوانی والے ممالک کے اسکور 80 سے زائد ہیں۔
حکومتی حکام کے مطابق مجوزہ کمیٹی نفاذِ قانون، عوامی مالی نظم و نسق، عدالتی کارکردگی اور ادارہ جاتی احتساب کے نظام کا تفصیلی تجزیہ کرے گی اور قابلِ عمل سفارشات پیش کرے گی۔ حکومت کو امید ہے کہ آزاد تجزیے اور مربوط پالیسی کے ذریعے نہ صرف عالمی درجہ بندی بہتر بنائی جا سکے گی بلکہ ملک کے اندر شفافیت اور احتساب کا نظام بھی مضبوط ہوگا۔