اندور:بھارت میں مودی کی ہندو سرکار جہاں مسلمانوں کی قتل و غارت کررہی ہے وہیں مسلمانوں کو معاشی،مذہبی ،سماجی طور پر بھی مفلوج بنانے کی سازشوں میں بھی مصروف ہے۔
تازہ واقعے میں ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے اندور میں میئر نےمساجد میں لاﺅڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگا نے کا مطالبہ کردیا ہے۔
اندور کے میئر نے مذہبی مقامات کے میناروں پر لگے لائوڈ اسپیکرز کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
میئر پشیامتر بھارگو کو گزشتہ کئی دنوں سے شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے لائوڈ اسپیکر ضبط کر لیے گئے ہیں، لیکن مساجد کے میناروں پر لگے لائوڈ اسپیکر اب بھی مختلف اوقات میں بڑے پیمانے پر صوتی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ اونچائی پر نصب اسپیکر آس پاس کے علاقوں میں صوتی آلودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔
میئر نے بتایا کہ انہیں صوتی آلودگی کی سب سے زیادہ شکایات وارڈ 72 (لوکمانیہ نگر)، وارڈ 41 اور وارڈ 48 کے مکینوں سے موصول ہوئی ہیں۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ میناروں پر بلند لائوڈ اسپیکر سے آواز پورے علاقے میں پھیل جاتی ہے، جس سے روزمرہ کی زندگی میں خلل پڑتا ہے۔
میئر نے وضاحت کی کہ شہر میں سال بھر مقابلہ جاتی امتحانات اور اسکولی امتحانات منعقد ہوتے ہیں۔ اس سے طلباءکی تیاری متاثر ہوتی ہے اور بوڑھوں اور بیماروں کے لیے بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ڈی جے اور دیگر آواز کے آلات پر پابندی لگائی جا سکتی ہے تو مذہبی مقامات پر نصب بلند لائوڈاسپیکر کے خلاف بھی ایسی ہی کارروائی کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے کلکٹر کو اس مسئلہ سے آگاہ کیا ہے اور فوری کارروائی کی توقع ہے۔
میئر نے یاد دلایا کہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی ہدایت پر اس معاملے پر پہلے ہی ریاستی سطح پر ہدایات جاری کر دی گئی تھیں اور کارروائی بھی کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ ایسے لائوڈ اسپیکر لگائے گئے تو انتظامیہ اس کی تفصیلی تحقیقات کرے۔