پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے باجوڑ میں ہونے والے ہولناک خودکش دھماکے کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے سہولت کاروں اور معاونین کے خلاف بڑے ایکشن کا فیصلہ کرلیا ہے۔
محکمہ انسداد دہشت گردی کے ذرائع کے مطابق 3 اہم سہولت کاروں کے سروں کی مجموعی طور پر پانچ کروڑ روپے قیمت مقرر کی گئی ہے اور ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 16 فروری 2026 کو باجوڑ کی ملنگی پوسٹ پر خودکش حملے میں دو بے گناہ شہریوں سمیت 11 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔
تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق حملہ آور کا تعلق افغانستان سے تھا اور اس کی شناخت احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ حملہ آور افغانستان کے صوبہ بلخ کا رہائشی تھا اور ماضی میں طالبان کی اسپیشل فورسز کا حصہ بھی رہ چکا تھا۔ سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری مقامی نیٹ ورک کے ذریعے کی گئی جسے اب مکمل طور پر بے نقاب کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر چھاپے مارے جائیں گے اور سرحدی نگرانی کو مزید سخت کیا جائے گا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کار دراصل وہ کڑی ہوتے ہیں جو ایسے حملوں کو ممکن بناتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائی فیصلہ کن ہوگی۔ سیاسی اور عسکری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد صوبے میں انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔
سیکورٹی ماہرین کے مطابق انعامی رقم کا اعلان عوام کو معلومات فراہم کرنے کی ترغیب دینے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ دہشت گردوں کے سہولت کار جلد قانون کی گرفت میں آسکیں۔