افغانستان کے شمالی علاقوں میں آنے والے زوردار زلزلے نے نہ صرف وہاں کے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ اس کے جھٹکے پاکستان اور تاجکستان کے مختلف حصوں میں بھی شدت کے ساتھ محسوس کیے گئے، جس کے باعث وسیع علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی۔ اچانک لرزتی زمین نے لوگوں کو گھروں، دفاتر اور تجارتی مراکز سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا، جہاں شہری کلمۂ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلے مقامات کی طرف دوڑتے دکھائی دیے۔
زلزلہ پیما مراکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی جبکہ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز افغانستان کے صوبہ پنجشیر کے علاقے بازارک میں واقع تھا۔
یو ایس جی ایس کا کہنا ہے کہ زلزلہ زمین کی سطح سے تقریباً 90 کلومیٹر گہرائی میں آیا، جس کے باعث اس کے اثرات وسیع خطے میں محسوس کیے گئے اور جھٹکے افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت متعدد شہروں تک پھیل گئے۔
زلزلے کے جھٹکوں کی شدت پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی نمایاں طور پر محسوس کی گئی، جن میں سرگودھا، کوہاٹ، صوابی، پشاور، چترال، مالاکنڈ، باجوڑ، شانگلہ، پاراچنار اور لنڈی کوتل کے علاوہ ملحقہ علاقوں شامل ہیں۔
کئی مقامات پر شہری خوف کے عالم میں گھروں سے باہر نکل آئے، جبکہ دفاتر اور تعلیمی اداروں میں بھی وقتی طور پر سرگرمیاں معطل کر دی گئیں۔
دوسری جانب تاجکستان کے مختلف علاقوں سے بھی زلزلے کے جھٹکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس سے خطے میں زلزلے کی وسعت اور شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
تاہم تاحال کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ متعلقہ ریسکیو اور انتظامی ادارے صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الوقت کسی نقصان کی رپورٹ سامنے نہیں آئی، تاہم شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور آفٹر شاکس کے پیشِ نظر محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ زلزلے کے اس اچانک جھٹکے نے ایک بار پھر اس خطے میں قدرتی آفات کے خطرات کو اجاگر کر دیا ہے، جہاں کسی بھی لمحے صورتحال سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔