ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سرحد پار دہشتگردی برداشت سے باہر، منصوبہ ساز کہیں بھی محفوظ نہیں رہیں گے، صدر آصف زرداری

آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کا صبر اپنی حد کو پہنچ چکا ہے اور ملک اپنے دفاع کے فطری حق کے تحت ضروری اقدامات کر رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ تشدد کی منصوبہ بندی کرنے والے عناصر چاہے کہیں بھی ہوں، پاکستان کی دسترس سے باہر نہیں رہیں گے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی انتباہات کے باوجود دہشت گرد گروہوں کو مسلسل محفوظ پناہ گاہیں ملتی رہیں، جس کے باعث افغانستان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں زیادہ تشویشناک اور غیر یقینی ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ معاہدے کے وعدوں کے برعکس دہشت گرد عناصر کو کارروائی کی کھلی اجازت ملی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں متعدد دہشت گرد تنظیموں کی افغانستان میں موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر گروہ شامل ہیں جو افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ صدر کے مطابق افغان حکام انتباہات کے باوجود کوئی مؤثر اور قابلِ اعتماد کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی شہریوں کی جانوں کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کے صوبوں ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق تقریباً 70 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر کا تعلق پاکستان سے تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں