ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

فرانس نے آبنائے ہرمز میں کسی فوجی آپریشن میں شمولیت سے صاف انکار کر دیا

یورپ کی بڑی طاقتوں نے خلیجی صورتحال پر محتاط حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے کسی بھی ممکنہ فوجی مہم سے خود کو دور رکھنے کا عندیہ دے دیا ہے، جہاں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ فرانس آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے کسی عسکری آپریشن کا حصہ نہیں بنے گا۔

پیرس میں اپنے بیان کے دوران فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ان کا ملک موجودہ تنازع کا براہِ راست فریق نہیں، اس لیے کسی بھی فوجی کارروائی میں شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، فرانس اس حساس صورتحال میں طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی اور اسٹریٹجک راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔

ایمانوئیل میکرون نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ فرانس ایک ایسے بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل پر غور کر رہا ہے جو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بعد سمندری راستوں کو محفوظ اور آزاد رکھنے کے لیے کردار ادا کرے۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ اس اقدام کا مقصد عالمی تجارت کے اہم گزرگاہوں کو لاحق خطرات کا دیرپا حل تلاش کرنا ہے۔

ادھر برطانیہ کے وزیر اعظم کئیر اسٹارمر بھی اس حوالے سے پہلے ہی اپنا مؤقف سامنے لا چکے ہیں اور واضح کر چکے ہیں کہ لندن بھی آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی فوجی کارروائی میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

یورپی رہنماؤں کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی ممالک اس وقت براہِ راست عسکری تصادم سے گریز کرتے ہوئے سفارتی سطح پر بحران کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ خطے میں مزید کشیدگی کو روکا جا سکے اور عالمی تجارتی نظام متاثر نہ ہو۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں