ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی رکن کی اپنی حکومت پر تنقید، وعدوں اور کارکردگی پر سوالات

پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے رکن عبدالکریم تورڈھیر نے اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں، روزگار اور گورننس سے متعلق کئی سوالات اٹھا دیے۔

اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے بڑے وعدوں، جن میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر، 10 لاکھ نوکریاں، سیاحت اور آئی ٹی کے فروغ کے اعلانات شامل تھے، ان پر عملدرآمد نظر نہیں آ رہا، گزشتہ اجلاس میں سچ بولنے پر مشیر خزانہ مزمل اسلم ناراض ہو گئے تھے۔

عبدالکریم تورڈھیر کا کہنا تھا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں ان کے حلقے کی اسکیمیں نکال دی جاتی ہیں، جس سے ناانصافی کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں “پک اینڈ چوز” کا سلسلہ بند کیا جائے اور تمام اضلاع کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ صوابی ضلع سب سے زیادہ آمدن دینے والے علاقوں میں شامل ہے، مگر وہاں کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، ضلع کرک میں کینسر کے کیسز بڑھ رہے ہیں لیکن وہاں اے گریڈ اسپتال موجود نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ سستی بجلی پیدا کر رہا ہے مگر نظام کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جا رہا۔ اس کے علاوہ دریاؤں میں غیرقانونی طور پر مچھلیاں پکڑی جا رہی ہیں، جس کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔

رکن اسمبلی نے زور دیا کہ مؤثر قانون سازی کی جائے اور عوام کو ان کے حقوق دیے جائیں،خیبر پختونخوا میں گڈ گورننس صرف پریزنٹیشنز تک محدود نظر آتی ہے جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں