غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے 177 پاکستانی شہریوں کو لیبیا سے بے دخل کیے جانے کے بعد خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا جبکہ ابتدائی تحقیقات میں انسانی اسمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ واپس لائے گئے تمام افراد مختلف غیر قانونی راستوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش میں لیبیا گئے تھے، جہاں انہیں حکام نے گرفتار کرنے کے بعد ملک بدر کر دیا۔
ان افراد کی پاکستان واپسی کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے مزید تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ انہیں بیرون ملک بھیجنے والے ایجنٹس اور سہولت کاروں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق اسلام آباد پہنچنے والے افراد کی بڑی تعداد پنجاب کے مختلف شہروں سے تعلق رکھتی ہے۔ واپس آنے والوں میں 59 افراد لاہور، 58 گجرات، 26 راولپنڈی، 23 گوجرانوالہ جبکہ 10 افراد سیالکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ایک شخص اسلام آباد کا رہائشی بتایا گیا ہے۔
ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد ایران اور سعودی عرب کے راستے لیبیا پہنچے تھے، جہاں سے انہیں بعد ازاں یورپ منتقل کیے جانے کا منصوبہ تھا۔
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ اس غیر قانونی سفری نیٹ ورک میں ملوث بعض ایجنٹس کی نشاندہی کر لی گئی ہے، جنہیں ریڈ بک میں شامل کر دیا گیا ہے تاکہ ان کے خلاف مزید کارروائی کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہنچنے کے بعد تمام افراد کو تحویل میں لے کر ایف آئی اے کے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سیل منتقل کیا گیا، جہاں ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
بعد ازاں انہیں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے متعلقہ زونز کے حوالے کیا جائے گا تاکہ مزید قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوششوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔