ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ میں انقلاب، بی وائے ڈی نے منٹوں میں بیٹری چارج کرنے کی ٹیکنالوجی متعارف کرا دی

چینی کمپنی بی وائے ڈی نے منٹوں میں بیٹری چارج کرنے کی ٹیکنالوجی متعارف کرا دی۔

الیکٹرک گاڑیوں کے صارفین کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آگئی، چینی کمپنی BYD برطانیہ میں آئندہ 12 ماہ کے دوران 300 جدید فلیش چارجنگ اسٹیشنز نصب کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے الیکٹرک گاڑی کی بیٹری صرف 9 منٹ میں 10 سے 97 فیصد تک چارج کی جاسکے گی۔

کارسکوپس کی رپورٹ کے مطابق BYD آئندہ چند ہفتوں میں برطانیہ میں اپنے پہلے فلیش چارجنگ اسٹیشنز متعارف کرائے گی۔ کمپنی کی جانب سے تیار کردہ یہ نظام چین میں پہلے ہی بڑے پیمانے پر استعمال ہورہا ہے اور اب اسے یورپی مارکیٹ میں بھی متعارف کرایا جارہا ہے۔

BYD کے فلیش چارجر میں دو کنیکٹرز موجود ہیں، ایک گاڑی چارج ہونے کی صورت میں چارجر 1,500 کلو واٹ تک کی زیادہ سے زیادہ طاقت فراہم کرسکتا ہے جبکہ بیک وقت دو گاڑیاں چارج ہونے کی صورت میں ہر کنیکٹر کو 1,000 کلو واٹ تک بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔

کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے بیٹری کو صرف 5 منٹ میں 10 سے 70 فیصد تک چارج کیا جاسکتا ہے جبکہ 10 سے 97 فیصد تک چارج ہونے میں صرف 9 منٹ درکار ہوں گے، شدید سرد موسم میں بھی چارجنگ کی رفتار نمایاں طور پر برقرار رہنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جہاں منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں بیٹری کو 20 سے 97 فیصد تک چارج کرنے میں تقریباً 12 منٹ لگیں گے۔

بی وائے ڈی کی نئی چارجنگ ٹیکنالوجی موجودہ کئی تیز رفتار چارجنگ نیٹ ورکس کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ طاقت فراہم کرتی ہے، برطانیہ میں ٹیسلا کے V3 اور V4 سپر چارجرز 250 کلو واٹ تک بجلی فراہم کرتے ہیں جبکہ کمپنی کا مستقبل کا V5 ہارڈویئر 500 کلو واٹ تک پہنچنے کی توقع ہے، اس کے مقابلے میں BYD کا فلیش چارجر 1,500 کلو واٹ تک کی طاقت فراہم کرسکتا ہے۔

اس غیر معمولی رفتار کے پیچھے بی وائے ڈی کی جدید بیٹری ٹیکنالوجی اور چارجنگ اسٹیشن میں نصب توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہر فلیش چارجنگ اسٹیشن میں 185 کلو واٹ آور گنجائش والی دو اسٹوریج بیٹریاں نصب کی جاتی ہیں، جنہیں گرڈ سے 560 کلو واٹ تک کی رفتار سے چارج کیا جاسکتا ہے، بعد ازاں یہی ذخیرہ شدہ توانائی انتہائی تیز رفتاری سے گاڑی کی بیٹری میں منتقل کی جاتی ہے۔

BYD آئندہ ایک سال کے دوران برطانیہ میں 300 فلیش چارجنگ اسٹیشنز نصب کرے گی۔ ان اسٹیشنز کے لیے BYD اور Denza کے ڈیلرشپس، موٹر وے سروس اسٹیشنز اور موجودہ چارجنگ ہبز کو ترجیح دی جائے گی۔

اس ٹیکنالوجی کو سپورٹ کرنے والی پہلی گاڑی Denza Z9 GT ہوگی جبکہ BYD کے جدید پلگ اِن ہائبرڈ ماڈلز بھی نئی نسل کی Blade Battery 2.0 کے ساتھ انتہائی تیز DC چارجنگ کی سہولت فراہم کریں گے۔

بی وائے ڈی کے مطابق اس کے قابلِ مطابقت گاڑیوں کے مالکان کو برطانیہ بھر میں ترجیحی بجلی کے نرخ دیے جائیں گے جو عام انتہائی تیز رفتار چارجنگ کی موجودہ ریٹیل قیمتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوں گے۔ دیگر کمپنیوں کی الیکٹرک گاڑیاں بھی ان اسٹیشنز سے چارج ہوسکیں گی، تاہم ان کے مالکان سے نسبتاً زیادہ چارجنگ فیس وصول کی جائے گی۔

سام سنگ نے ایپل کو ٹکر دینے کی تیاری کرلی، کیا نیا لانچ ہونے والا ہے؟

ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی عملی سطح پر کمپنی کے دعوؤں کے مطابق کارکردگی دکھاتی ہے تو چارجنگ میں لگنے والا وقت الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ میں ایک بڑی رکاوٹ نہیں رہے گا اور روایتی پٹرول و ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ مزید بڑھ سکتی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں