لیڈز: ہیڈنگلے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو اننگز اور 103 رنز سے شکست دے کر تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کرلی۔
پاکستان کی ٹیم دوسری اننگز میں بھی انگلش بولرز کے سامنے مزاحمت نہ کرسکی اور پوری ٹیم 37.3 اوورز میں صرف 135 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ پاکستان کو اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے مزید 103 رنز درکار تھے۔
پاکستان کی جانب سے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے سب سے زیادہ 41 رنز بنائے، جبکہ شان مسعود نے 29، سعود شکیل نے 14، عبداللہ شفیق نے 15 اور اذان اویس نے 9 رنز اسکور کیے۔ کپتان سلمان علی آغا صرف 4 رنز بنا سکے۔
انگلینڈ کی جانب سے اولی رابنسن اور جوش ٹنگ نے دوسری اننگز میں 3،3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ جوفرا آرچر نے بھی 3 پاکستانی بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی، گس ایٹکنسن نے ایک وکٹ حاصل کی۔
اس سے قبل پاکستان نے پہلی اننگز میں 171 رنز بنائے تھے۔ عبداللہ شفیق نے 61 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، جبکہ امام الحق نے 42 رنز بنائے۔ انگلینڈ کی جانب سے اولی رابنسن اور جوش ٹنگ نے 5،5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
جواب میں انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں 409 رنز بنا کر پاکستان کے خلاف 238 رنز کی بڑی برتری حاصل کی۔ ہیری بروک 91 رنز بنا کر سنچری سے محروم رہے، جبکہ جارڈن کاکس نے 73، جو روٹ نے 66 اور ڈین لارنس نے 51 رنز بنائے۔ جوفرا آرچر 23 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
پاکستان کے بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے 95 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں تاہم ان کی یہ کارکردگی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی۔
انگلینڈ کی جانب سے اولی رابنسن نے میچ میں مجموعی طور پر 8 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ جوفرا آرچر اور جوش ٹنگ نے بھی پاکستان کی بیٹنگ لائن کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔
انگلینڈ کی اس فتح میں اس کے فاسٹ بولرز کی شاندار کارکردگی فیصلہ کن ثابت ہوئی اور میزبان ٹیم نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے دی۔
میچ کے بعد سلمان علی آغا نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ٹیم کی کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بیٹنگ اور بالنگ دونوں شعبوں میں اچھا پرفارم نہیں کرسکا، تاہم اگلے ٹیسٹ میچ میں بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں گے۔
سلمان علی آغا نے کہا کہ انگلینڈ میں انہیں پریکٹس کا زیادہ موقع نہیں ملا۔ اگر ٹیم ایک ماہ پہلے انگلینڈ آجاتی تو کنڈیشنز کو زیادہ بہتر سمجھنے کا موقع مل سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت دیگر ایشیائی ٹیمیں بھی انگلینڈ کی کنڈیشنز میں مشکلات کا شکار ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود، سعود شکیل اور محمد رضوان گزشتہ دو سیریز سے اچھا پرفارم نہیں کر رہے، تاہم انہی نمبروں پر کھیلتے ہوئے پاکستان کو کئی بار مشکل صورتحال سے نکالا ہے۔
سلمان علی آغا نے پاکستانی بالنگ اٹیک کے حوالے سے کہا کہ ٹیم کے پاس مسلسل 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرانے والے بولرز موجود نہیں، جبکہ انگلینڈ اور پاکستان کی کارکردگی میں واضح فرق نظر آیا۔
بابر اعظم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا کہ انہیں خوشی ہوگی اگر بابر اعظم جلد از جلد کپتانی کی ذمہ داری سنبھالیں۔ ان کے مطابق بابر اعظم دنیا کے بہترین بیٹرز میں سے ایک ہیں اور ان کا جلد فٹ ہونا پاکستان ٹیم کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
سلمان علی آغا نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اگلے ٹیسٹ میں اپنی خامیوں پر قابو پاتے ہوئے بہتر کھیل پیش کرے گا۔