سری نگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے منگل کے روز کہا کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو آج وہی سلوک برداشت کرنا پڑ رہا ہے جو ان کی حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ روا رکھا تھا۔محبوبہ مفتی نے جیل میں قید عمران خان سے اپنی پہلی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ 1994 میں اپنے والد کے ہمراہ لندن میں عمران خان سے ملی تھیں اور ان کے عزم اور جذبے سے متاثر ہوئی تھیں۔
محبوبہ مفتی نے ایکس پر اپنے بیان میں لکھا، ’’میں پہلی بار 1994 میں اپنے والد کے ساتھ لندن میں عمران خان سے ملی تھی۔ پاکستان میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے ان کا جذبہ اور عزم میرے والد کو بہت متاثر کرتا تھا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ جب عمران خان وزیر اعظم بنے تو ان کی حکومت بھی اسی سیاسی کلچر کا حصہ بن گئی۔ محبوبہ کے مطابق، ’’ان کے سیاسی مخالفین کے خلاف بھی اسی جوش و جذبے سے کارروائیاں کی گئیں، جس کا سامنا آج خود عمران خان کو کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ عمران خان کو مارچ 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے پاکستان کے وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ وہ مارچ 2023 سے بدعنوانی کے الزامات کے سلسلے میں جیل میں ہیں۔