دو بار او ایس ڈی بنائے گئے، پمز سانحے کے بعد اضافی چارج ملنے پر سوالات اٹھ گئے
محمد محمود رائے
پمز سانحے کے بعد کیپٹن (ر) محمد محمود کو وفاقی سیکرٹری صحت کا اضافی چارج دیے جانے سے ان کی سابقہ تقرریوں، انکوائریوں اور بار بار او ایس ڈی بنائے جانے کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث آگیا ہے۔
گریڈ 21 کے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس افسر کیپٹن (ر) محمد محمود سابق کمشنر راولپنڈی اور متعدد اہم وفاقی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان کا نام 2021 کے راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل میں سامنے آیا، جہاں ان پر منصوبے کی الائنمنٹ تبدیل کرکے بعض ہاؤسنگ منصوبوں کو فائدہ پہنچانے کے الزامات عائد ہوئے۔ انہیں گرفتار کرکے او ایس ڈی بھی بنایا گیا، تاہم بعد ازاں وفاقی محکمانہ انکوائری میں وہ الزامات سے بری الذمہ قرار پائے۔
محمود کا نام ماضی میں نندی پور پاور پراجیکٹ سے متعلق معاملات میں بھی زیرِ بحث آتا رہا ہے۔ نندی پور منصوبے کی لاگت میں اضافے، تاخیر اور انتظامی فیصلوں پر مختلف ادوار میں تحقیقات اور اعتراضات سامنے آتے رہے، جن میں متعدد سرکاری افسران کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ تاہم نندی پور معاملے میں محمود کے خلاف کسی حتمی عدالتی فیصلے یا ثابت شدہ کرپشن کو ان کی ذات سے منسوب کرنا احتیاط کے بغیر درست نہیں ہوگا۔
2023 میں گندم درآمد کے معاملے میں بھی ان کا نام زیرِ بحث آیا، جبکہ 2024 میں وزارت آئی ٹی میں ایل ڈی آئی کمپنیوں کے واجبات سے متعلق پالیسی پر سوالات اٹھنے کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر دوبارہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں او ایس ڈی تعینات کیا گیا۔ محمود نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق کیپٹن (ر) محمد محمود کم از کم 2 واضح مواقع پر او ایس ڈی بنائے گئے، تاہم دونوں ادوار کے بعد وہ دوبارہ اہم وفاقی ذمہ داریوں پر تعینات ہوتے رہے۔
2025 میں انہیں سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس مقرر کیا گیا، جبکہ پمز میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد انہیں وفاقی سیکرٹری صحت کا اضافی چارج بھی سونپ دیا گیا ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ ایسے افسر کو، جس کا نام مختلف ادوار میں انکوائریوں اور تنازعات میں آتا رہا، بار بار حساس وفاقی عہدوں پر تعینات کرنے کے لیے حکومت کا احتساب، اسکریننگ اور کلیئرنس کا معیار کیا ہے؟