ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

61ہزار ڈیلی ویجرز کی مستقلی میں تاخیر، یکم ستمبر کو احتجاج کا اعلان، بھوک ہڑتال اور کام چھوڑ ہڑتال کی دھمکی

سری نگر/جموں و کشمیر کیجول ڈیلی ویجرز فورم نے 61 ہزار ڈیلی ویجرز کی مستقلی میں مسلسل تاخیر کے خلاف یکم ستمبر کو پُرامن احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ فورم نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے مستقلی کے معاملے پر ٹھوس کارروائی نہ کی تو احتجاج کو بھوک ہڑتال اور کام چھوڑ ہڑتال سمیت مزید سخت کیا جا سکتا ہے۔فورم کے صدر سجاد احمد پرےنے سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف محکموں میں کام کرنے والے ڈیلی ویجرز اور ملازمین سے اپیل کی کہ وہ متحد رہیں اور مستقلی سمیت اپنے مطالبات کے مستقل حل کے لیے مسلسل جمہوری جدوجہد کے لیے تیار رہیں۔
انہوں نے کہا کہ11 مارچ 2025کو چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جسے ڈیلی ویجرز کی مستقلی کے لیے روڈ میپ تیار کرکے چھ ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنا تھی۔ تاہم سجاد احمد پرے کے مطابق تقریباً 17 ماہ گزرنے کے باوجودکمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات عوام کے سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی میں یقین دہانی کرائی تھی کہ موجودہ مالی سال کے دوران ڈیلی ویجرز کی مستقلی کا عمل شروع کیا جائے گا، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔
فورم صدر نے کہا کہ تقریباً 61 ہزار ڈیلی ویجرز اور ان کے اہل خانہ طویل عرصے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے ڈیلی ویجرز کو ماہانہ تقریباً 9 ہزار روپےمعاوضہ ملتا ہے، جبکہ گھریلو اخراجات، علاج معالجے، بچوں کی تعلیم اور بجلی و دیگر یوٹیلیٹی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سجاد احمد پرے نے ملازمین اور ڈیلی ویجرز کو تقسیم کرنے کی مبینہ کوششوں کے خلاف بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد میں اتحاد اور اجتماعی کارروائی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یکم ستمبر کا احتجاج نئے مرحلے کی پہلی کڑی ہوگا۔ اگر حکومت نے ڈیلی ویجرز کے مطالبات کا منصفانہ اور مستقل حل نکالنے میں مزید تاخیر کی تو فورم کی جانب سے بھوک ہڑتال اور کام چھوڑ ہڑتال سمیت مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں